تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اسپیکر سطبین خان نے اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا ہے جب کہ پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ پرویز الہیٰ نے آج اعتماد کاووٹ نہ لیا تو گورنر بلیغ الرحمان انہیں ڈی نوٹیفائی کر دیں گے، یعنی عہدے سے ہٹا دیں گے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی سطین خان نے منگل کے روز رولنگ جاری کی کہ سیشن کے دوران گورنر نیا اجلاس نہیں بلاسکتے، آئینی دفعات کے تحت ہی اجلاس کو ختم کیا جا سکتا ہے،اجلاس ختم ہونے پر گورنر نیا اجلاس طلب کر سکتے ہیں۔
سطبین خان نے کہاکہ آج کی کارروائی ختم ہوگئی لہٰذا صوبائی اسمبلی کا اجلاس جمعے تک ملتوی کیا جاتا ہے۔ رولنگ میں کہا گیا کہ عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ اعتماد کے ووٹ کے لئے کم از کم 10 دن دئیے جائیں گے، گورنر آرٹیکل 109 کے تحت اجلاس طلب یا ختم کر سکتا ہے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم کا کہناہے کہ پرویزالہٰی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا تو وزارت اعلی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے،ن لیگ، پیپلزپارٹی اور دیگر اتحادی آج سہ پہر چار بجے پنجاب اسمبلی پہنچیں گے۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پی ڈی ایم کے اجلاس میں اسپیکر سبطین خان کا موقف غلط قرار دیا گیا اور کہاگیا کہ پرویز الہی نے اعتماد کا ووٹ نہ لیا تو گورنر انہیں ڈی نوٹیفائی کردیں گے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے رولز اور آئین کی الگ الگ تشریح کی جا رہی ہے جب کہ آئین رولز سے اوپر ہے۔
The post پنجاب میں ایک بار پھر آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ appeared first on BOL News Urdu - بول نیوز اردو.
from BOL News Urdu – بول نیوز اردو https://ift.tt/LHNmQ4B
0 Comments